حدیث نمبر: 18214
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَاشِرَ عَشْرَةٍ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، مَنْ أَكْيَسُ النَّاسِ ، وَأَحْزَمُ النَّاسِ ؟ قَالَ : " أَكْثَرُهُمْ ذِكْرًا لِلْمَوْتِ ، وَأَكْثَرُهُمُ اسْتِعْدَادًا لِلْمَوْتِ ، قَبْلَ نُزُولِ الْمَوْتِ أُولَئِكَ هُمُ الْأَكْيَاسُ ، ذَهَبُوا بِشَرَفِ الدُّنْيَا ، وَكَرَامَةِ الْآخِرَةِ " . قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ بِاخْتِصَارٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، مجھ سمیت دس افراد تھے ، انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص کھڑا ہوا ، اُس نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! کون سب سے زیادہ سمجھدار ہے ؟ اور کون سب سے زیادہ محتاط ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو سب سے زیادہ موت کو یاد کرنے والا ہو ، اور جس نے موت کے آنے سے پہلے موت کے لیے سب سے زیادہ تیاری کی ہو ، وہ لوگ ہی سمجھدار ہیں ، دنیا کا شرف اور آخرت کی کرامت ( یعنی عزت ) لے گئے ہیں ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابن ماجہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18214
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (1008) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13536)»