مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّمْتِ وَحِفْظِ اللِّسَانَ . باب: خاموش رہنے اور زبان کی حفاظت کرنے کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 18175
وَعَنْ أَسْلَمَ : أَنَّ عُمَرَ اطَّلَعَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ ، وَهُوَ يَمُدُّ لِسَانَهُ فَقَالَ : مَا تَصْنَعُ يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ ! فَقَالَ : إِنَّ هَذَا أَوْرَدَنِي الْمَوَارِدَ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَيْسَ شَيْءٌ مِنَ الْجَسَدِ إِلَّا يَشْكُو ذَرَبَ اللِّسَانِ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُوسَى بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حَيَّانَ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤محمد محی الدین
اسلم بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ اپنی زبان کو کھینچ رہے تھے ، انہوں نے دریافت کیا : اے اللہ کے رسول کے خلیفہ ! یہ آپ کیا کر رہے ہیں ؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس نے مجھے مختلف طرح کی صورتحال کا شکار کیا ہے ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جسم کی ہر چیز زبان کی تیزی کی شکایت کرتی ہے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف موسیٰ بن محمد بن حیان کا معاملہ مختلف ہے اور ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔