حدیث نمبر: 18173
وَعَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ : قَالَ لِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : يَا أَحَنَفُ ، مَنْ كَثُرَ ضَحِكُهُ قَلَّتْ هَيْبَتُهُ ، وَمَنْ مَزَحَ اسْتُخِفَّ بِهِ ، وَمَنْ كَثُرَ كَلَامُهُ كَثُرَ سَقْطُهُ ، وَمَنْ كَثُرَ سَقْطُهُ قَلَّ حَيَاؤُهُ ، وَمَنْ قَلَّ حَيَاؤُهُ قَلَّ وَرَعُهُ ، وَمَنْ قَلَّ وَرَعُهُ مَاتَ قَلْبُهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ دُوَيْدُ بْنُ مُجَاشِعٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

احنف بن قیس بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا : ” اے احنف ! جس کا ہنسنا زیادہ ہو گا ، اس کی ہیبت کم ہو گی ، جو مزاح کرے گا ، اس کو ہلکا سمجھا جائے گا جو زیادہ کلام کرے گا اس کی فضولیات بھی زیادہ ہوں گی اور جس کی فضولیات زیادہ ہوں گی اس کی حیاء کم ہو گی اور جس کی حیاء کم ہو گی اس کی پرہیزگاری کم ہو گی اور جس کی پرہیزگاری کم ہو گی ، اس کا دل مر جائے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی دوید بن مجاشع ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18173
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف