مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّمْتِ وَحِفْظِ اللِّسَانَ . باب: خاموش رہنے اور زبان کی حفاظت کرنے کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَوْصِنِي ، قَالَ : " عَلَيْكَ بِتَقْوَى اللَّهِ ; فَإِنَّهَا جِمَاعُ كُلِّ خَيْرٍ ، وَعَلَيْكَ بِالْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ; فَإِنَّهَا رَهْبَانِيَّةُ الْمُسْلِمِينَ ، وَعَلَيْكَ بِذِكْرِ اللَّهِ وَتِلَاوَةِ كِتَابِهِ ; فَإِنَّهُ نُورٌ لَكَ فِي الْأَرْضِ ، وَذِكْرٌ لَكَ فِي السَّمَاءِ ، وَاخَزُنْ لِسَانَكَ إِلَّا مِنْ خَيْرٍ ; فَإِنَّكَ بِذَلِكَ تَغْلِبُ الشَّيْطَانَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ هُوَ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ . ¤سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا: یا رسول اللہ ! آپ مجھے کوئی تلقین کیجئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم پر اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرنا لازم ہے کیونکہ یہ ساری بھلائی کا مجموعہ ہے ، تم پر اللہ کی راہ میں جہاد کرنا لازم ہے کیونکہ یہ مسلمانوں کی رہبانیت ہے ، تم پر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا اور اس کی کتاب کی تلاوت کرنا لازم ہے ، کیونکہ یہ زمین میں تمہارے لئے نور ہو گا اور آسمان میں تمہارے لئے ذکر ہو گا ، تم اپنی زبان پر ق ابورکھو ، البتہ بھلائی کا معاملہ مختلف ہے ، کیونکہ اس کے ذریعے تم شیطان پر غالب آ جاؤ گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ مدلس ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔