مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّمْتِ وَحِفْظِ اللِّسَانَ . باب: خاموش رہنے اور زبان کی حفاظت کرنے کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 18163
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَسْكُتْ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَتْ لِهَذَا الْحَدِيثِ طُرُقٌ فِي كِتَابِ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ فِي حَقِّ الضَّيْفِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو ، اسے بھلائی کی بات کہنی چاہیے یا پھر خاموش رہنا چاہیے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے ایک طویل حدیث میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس روایت کے مختلف طرق اس سے پہلے نیکی اور صلہ رحمی سے متعلق کتاب میں ، مہمان کے حق سے متعلق باب میں گزر چکے ہیں ۔