مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّمْتِ وَحِفْظِ اللِّسَانَ . باب: خاموش رہنے اور زبان کی حفاظت کرنے کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أَبِي الْيُسْرِ أَنَّ رَجُلًا قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ ، قَالَ : " أَمْسِكْ عَلَيْكَ هَذَا " . وَأَشَارَ إِلَى لِسَانِهِ ، فَأَعَادَهَا عَلَيْهِ ، فَقَالَ : " ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ ! هَلْ يَكُبُّ النَّاسَ عَلَى مَنَاخِرِهِمْ فِي النَّارِ إِلَّا حَصَائِدُ أَلْسِنَتِهِمْ ؟ ! " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَقَالَ : إِسْنَادُهُ حَسَنٌ ، وَمَتْنُهُ غَرِيبٌ . ¤سیدنا ابوالیسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کسی ایسے عمل کے بارے میں میری رہنمائی کیجئے جو مجھے جنت میں داخل کروا دے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس کو ق ابومیں رکھو ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان کی طرف اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی ۔ اس شخص نے آپ کے سامنے اپنا سوال دہرایا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تمہاری ماں تمہیں روئے ، لوگوں کو اُن کے نتھنوں کے بل جہنم میں صرف اُن کی زبان کی کھیتیوں کی وجہ سے ڈالا جائے گا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے وہ کہتے ہیں : اس کی سند حسن ہے اور اس کا متن غریب ہے ۔