مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ نَامَ عَنْ صَلَاةٍ أَوْ نَسِيَهَا . باب: جو شخص نماز کے وقت سویا رہ جائے یا اسے بھول جائے اس کا حکم
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَفَرٍ فَلَمْ يَسْتَيْقِظْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى آذَاهُ حَرُّ الشَّمْسِ بَيْنَ كَتِفَيْهِ ، فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ مَكَثُوا ، فَأَقَامَ الصَّلَاةَ فَتَقَدَّمَ ، [ فَلَمَّا صَلَّى بِهِمْ ] قَالَ : " إِذَا رَقَدَ أَحَدُكُمْ فَغَلَبَتْهُ عَيْنَاهُ فَلْيَفْعَلْ هَكَذَا ، فَإِنَّ اللَّهَ - تَعَالَى - يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ حِينَ مَوْتِهَا وَالَّتِي لَمْ تَمُتْ فِي مَنَامِهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ جَعْفَرُ بْنُ الزُّبَيْرِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے ( ہم لوگ سو گئے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار نہیں ہوئے یہاں تک کہ دونوں کندھوں کے درمیان سورج کی تپش نے آپ کو اذیت پہنچائی جب آپ بیدار ہوئے تو لوگ رُک گئے آپ نے تکبیر کہی اور آگے بڑھے پھر آپ نے انہیں نماز پڑھائی پھر آپ نے ارشاد فرمایا : جب کوئی شخص سویا ہو اور اس کی آنکھیں اس پر غالب آ جائیں تو وہ اس طرح کر لے ، تو اللہ تعالیٰ اس کے ہر جان کو اس کے مخصوص وقت پر وفات دے دیتا ہے ، اور اس کو بھی جو نیند کے دوران مرتا نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن زبیر ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔