مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ نَامَ عَنْ صَلَاةٍ أَوْ نَسِيَهَا . باب: جو شخص نماز کے وقت سویا رہ جائے یا اسے بھول جائے اس کا حکم
حدیث نمبر: 1815
وَعَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ سَعْدٍ أَنَّهَا قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَفْتِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ عَنْ رَجُلٍ نَسِيَ الصَّلَاةَ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ أَوْ غَرَبَتْ ، مَا كَفَّارَتُهَا ؟ قَالَ : " إِذَا ذَكَرَهَا فَلْيُصَلِّهَا وَلْيُحْسِنْ صَلَاتَهُ وَلْيَتَوَضَّأْ فَلْيُحْسِنْ وُضَوْءَهُ ، فَذَلِكَ كَفَّارَتُهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِي إِسْنَادِهِ مَجَاهِيلُ . ¤محمد محی الدین
سیدہ میمونہ بنت سعد رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ہمیں ایسے شخص کے بارے میں حکم بیان کیجئے جو نماز بھول جاتا ہے یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جاتا ہے یا غروب ہو جاتا ہے ، تو اس کا کفارہ کیا ہو گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب وہ اسے یاد آئے تو وہ اسے ادا کر لے اور اچھی طرح سے نماز ادا کرے اور وضو کرتے ہوئے اچھی طرح سے وضو کرے یہ اس کا کفارہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں مجہول راوی پائے جاتے ہیں ۔