مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ أَكَلَ طَيِّبًا حَلَّالًا . باب: اس شخص کا بیان ، جو پاکیزہ حلال چیز کھاتا ہے
وَعَنْ أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَثَلُ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ النَّحْلَةِ لَا تَأْكُلُ إِلَّا طَيِّبًا ، وَلَا تَضَعُ إِلَّا طَيِّبًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حَجَّاجُ بْنُ نُصَيْرٍ ، وَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفِهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤ قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ : " أَطِبْ مَطْعَمَكَ تَكُنْ مُسْتَجَابَ الدَّعْوَةِ " . فِي بَابِ فِيمَنْ أَكَلَ حَلَالًا أَوْ حَرَامًا . ¤سیدنا ابورزین عقیلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مومن کی مثال شہد کی مکھی کی مانند ہے جو صرف پاکیزہ چیز کھاتی ہے اور صرف پاکیزہ چیز نکالتی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن نصیر ہے جس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی نقل کردہ حدیث گزر چکی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے یہ فرمایا تھا : ” تم اپنا کھانا پاکیزہ رکھو ا تم مستجاب الدعوات بن جاؤ گے ۔ “ یہ حدیث ” باب : اس شخص کا بیان جو حلال یا حرام کھائے “ میں گزری ہے ۔