مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ نَامَ عَنْ صَلَاةٍ أَوْ نَسِيَهَا . باب: جو شخص نماز کے وقت سویا رہ جائے یا اسے بھول جائے اس کا حکم
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : لَمَّا غَزَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَبُوكَ أَدْلَجَ بِهِمْ حَتَّى إِذَا كَانَ مَعَ السَّحَرِ ، ثُمَّ نَزَلَ بِهِمْ سَحَرًا فَقَالَ : " يَا بِلَالُ ، احْرُسْ لَنَا الصَّلَاةَ " . قَالَ : نَعَمْ ، يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَغَلَبَ بِلَالًا النَّوْمُ فَرَقَدَ ، فَنَامُوا حَتَّى أَوْجَعَتْهُمُ الشَّمْسُ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَيَمَّمَ ، فَقَالَ لِبِلَالٍ : " أَذِّنْ وَأَقِمْ " فَقَالَ بِلَالٌ : الْآنَ ؟ فَقَالَ : " نَعَمْ " ، فَصَلُّوا بَعْدَمَا أَضْحَوْا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا شَيْخِ الطَّبَرَانِيِّ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک کے لئے تشریف لے گئے تو آپ رات بھر سفر کرتے رہے سحری سے کچھ پہلے آپ نے پڑاؤ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے بلال ہمارے لئے نماز کے وقت کی حفاظت کرنا انہوں نے عرض کی : ٹھیک ہے یا رسول اللہ ! سیدنا بلال رضی اللہ عنہ پر بھی نیند غالب آ گئی اور وہ بھی سو گئے باقی لوگ بھی سو گئے یہاں تک کہ سورج نے انہیں پریشان کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے آپ نے تیمم کیا آپ نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا تم اذان دو اور تم اقامت کہو سیدنا بلال نے دریافت کیا : کیا اس وقت ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! تو ان لوگوں نے دن چڑھ جانے کے بعد نماز ادا کی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے امام طبرانی کے استاد کے علاوہ اس کے تمام رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔