مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ نَامَ عَنْ صَلَاةٍ أَوْ نَسِيَهَا . باب: جو شخص نماز کے وقت سویا رہ جائے یا اسے بھول جائے اس کا حکم
حدیث نمبر: 1811
وَعَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَسِيَ صَلَاةَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ يَوْمَ الْأَحْزَابِ ، فَذَكَرَ بَعْدَ الْمَغْرِبِ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " شَغَلُونَا عَنِ الصَّلَاةِ حَتَّى ذَهَبَ النَّهَارُ ، أَدْخَلَ اللَّهُ قُبُورَهُمْ نَارًا " فَصَلَّاهُمَا بَعْدَ الْمَغْرِبِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ احزاب کے دن ظہر اور عصر کی نماز ادا نہیں کر سکے مغرب کے بعد آپ کو وہ یاد آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ان لوگوں نے ہمیں نماز ادا نہیں کرنے دی یہاں تک کہ دن رخصت ہو گیا اللہ تعالی ان کی قبروں میں آگ داخل کر دے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کے بعد یہ دونوں نمازیں ادا کیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔