حدیث نمبر: 1810
وَعَنْ عُبَادَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ غَفَلَ عَنِ الصَّلَاةِ حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ أَوْ طَلَعَتْ ، مَا كَفَّارَتُهَا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ وُضُوءَهُ ، ثُمَّ يُصَلِّي فَيُحْسِنُ صَلَاتَهُ ، وَيَسْتَغْفِرُ اللَّهَ ، وَلَا كَفَّارَةَ لَهَا إِلَّا ذَلِكَ ، إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَقُولُ : ( وَأَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي ) " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى ، وَلَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُبَادَةَ ، وَلَمْ يَرْوِ عَنْهُ غَيْرُ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا : جو نماز سے غافل رہتا ہے یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا یا طلوع ہو گیا ( اس شخص نے دریافت کیا : ) اس کا کفارہ کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ شخص وضو کرتے ہوئے اچھی طرح وضو کرے پھر نماز ادا کرے اور اچھی طرح نماز ادا کرے اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرے اس کا صرف یہی کفارہ ہے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ” میرے ذکر کے لئے نماز قائم کرو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن یحیی ہے ، اس نے سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ، اور اس کے حوالے سے موسیٰ بن عقبہ کے علاوہ اور کسی نے روایت نقل نہیں کی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1810
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف