مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ أَصْبَحَ مُعَافًى آمِنًا . باب: اس شخص کا بیان ، جو ایسی حالت میں صبح کرتا ہے کہ وہ عافیت والا ہو اور محفوظ ہو
حدیث نمبر: 18086
وَعَنْ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ابْنَ آدَمَ ، عِنْدَكَ مَا يَكْفِيكَ ، وَأَنْتَ تَطْلُبُ مَا يُطْغِيكَ ، لَا بِقَلِيلٍ تَقْنَعُ ، وَلَا مِنْ كَثِيرٍ تَشْبَعُ . ابْنَ آدَمَ ، إِذَا أَصْبَحْتَ آمِنًا فِي سِرْبِكَ ، مُعَافًى فِي جَسَدِكَ ، عِنْدَكَ قُوتُ يَوْمِكَ ; فَعَلَى الدُّنْيَا الْعَفَاءُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرٍ الدَّاهِرِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے ابن آدم ! تمہارے پاس وہ چیز ہے جو تمہارے لئے کفایت کرتی ہے اور تم اس چیز کو حاصل کرنا چاہتے ہو جو تمہیں سرکشی کا شکار کر دے گی ، نہ تم تھوڑے پر قناعت کرتے ہو اور نہ زیادہ سے سیر ہوتے ہؤ ، اے ابن آدم ! جب تم ایسی حالت میں صبح کرو کہ تم دلی طور پر محفوظ ( یا بے خوف ) ہو اور اپنے جسم کے حوالے سے عافیت میں ہو ، تمہارے پاس اس دن کی خوراک موجود ہو تو دنیا پر ہلاکت ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر داہری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔