حدیث نمبر: 18030
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لِامْرِئٍ مَا احْتَسَبَ ، وَعَلَيْهِ مَا اكْتَسَبَ ، وَالْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ ، وَمَنْ مَاتَ عَلَى ذُنَابَيِ الطَّرِيقِ فَهُوَ مِنْ أَهْلِهِ " . قُلْتُ : قَالَ صَاحِبُ النِّهَايَةِ : ذُنَابَيِ طَرِيقٍ يَعْنِي : عَلَى قَصْدِ الطَّرِيقِ ، وَهُوَ أَصْلُ الذَّنْبِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارٍ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ بَكْرٍ السَّكْسَكِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” آدمی کو اس چیز کا ثواب ملے گا ، جس کے ثواب کی اس نے امید رکھی ہو گی ، اور اس کا وبال اس پر ہو گا جو ( گناہ ) اس نے کمایا ہو گا اور آدمی اس کے ساتھ ہو گا جس سے وہ محبت رکھتا ہو گا اور جو شخص سیدھے راستے پر مرے گا ، وہ اس کے اہل میں سے ایک شمار ہو گا ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” النہایہ “ کے مصنف نے یہ بات بیان کی ہے : ” ذنابی الطریق “ سے مراد درمیانہ ( یعنی سیدھا ) راستہ ہے اور وہ ” ذنب “ کی اصل ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور معجم اوسط میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن بکر سکسکی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18030
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7650)»