حدیث نمبر: 17989
عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سَلِيطٍ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ فِي أَزْفَلَةٍ مِنَ النَّاسِ ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ ، وَلَا يَخْذُلُهُ . التَّقْوَى هَهُنَا " وَأَشَارَ إِلَى صَدْرِهِ " وَمَا تَوَادَّ رَجُلَانِ فِي اللَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - فَيُفَرِّقُ بَيْنَهُمَا إِلَّا بِحَدَثٍ يُحْدِثُهُ أَحَدُهُمَا وَالْمُحْدِثُ شَرٌّ ، وَالْمُحْدِثُ شَرٌّ ، وَالْمُحْدِثُ شَرٌّ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ وَقَدْ وَثَّقَهُ وَفِيهُ ضَعْفٌ ، رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین

بنو سلیط سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ اس وقت کچھ لوگوں کے درمیان موجود تھے ، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” مسلمان ، دوسرے مسلمان کا بھائی ہوتا ہے ، وہ اُس پر ظلم نہیں کرتا ، وہ اسے رسوا نہیں کرتا ، تقویٰ یہاں ہوتا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سینہ مبارک کی طرف اشارہ کر کے ( یہ بات ارشاد فرمائی اور پھر یہ فرمایا : ) جب بھی دو آدمی ایک دوسرے سے اللہ تعالیٰ کی خاطر محبت رکھتے ہیں ، تو ان دونوں کے درمیان علیحدگی ، کسی نئی پیدا ہونے والی چیز کی وجہ سے ہوتی ہے ، جس کا مرتکب اُن دونوں میں سے کوئی ایک ہوا ہوتا ہے اور نئی پیدا ہونے والی چیز ، شر ہوتی ہے اور نئی پیدا ہونے والی چیز ، شر ہوتی ہے اور نئی پیدا ہونے والی چیز ، شر ہوتی ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف علی بن زید کا معاملہ مختلف ہے ، اس کی توثیق کی گئی ہے لیکن اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17989
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (71/5)»