حدیث نمبر: 17978
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : الْمُؤْمِنُ يَأْلَفُ وَيُؤْلَفُ ، وَلَا خَيْرَ فِيمَنْ لَا يَأْلَفُ وَلَا يُؤْلَفُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْمَسْعُودِيُّ ، وَقَدِ اخْتَلَطَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَ هَذَانِ الْبَابَانِ فِي كِتَابِ الْأَدَبِ ، وَكَذَلِكَ بَابُ أَحْبِبْ حَبِيبَكَ هَوْنًا مَا عَسَى أَنْ يَكُونَ بَغِيضَكَ يَوْمًا مَا ، وَكَذَلِكَ بَابُ تَنَقِّهِ وَتَوَقِّهِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” مومن الفت رکھتا ہے اور اس سے الفت رکھی جاتی ہے اور اس شخص میں بھلائی نہیں ہے جو نہ الفت رکھتا ہو اور نہ اس سے الفت رکھی جائے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مسعودی ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے یہ دو باب ، کتاب الادب میں گزر چکے ہیں ، اسی طرح یہ باب ہے : تم اپنے دوست کے ساتھ مناسب دوستی رکھو ، کیونکہ ہو سکتا ہے ، کبھی وہ تمہاری ناپسندیدگی کا شکار بن جائے ، اسی طرح یہ باب ہے : ” تنقہ وتوقہ ۔ “

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17978
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8976)»