حدیث نمبر: 17974
وَعَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَتْ : كَانَتِ امْرَأَةً بِمَكَّةَ مَزَّاحَةً ، فَنَزَلَتْ عَلَى امْرَأَةٍ شَبَهًا لَهَا ، فَبَلَغَ ذَاكَ عَائِشَةَ فَقَالَتْ : صَدَقَ حِبِّي ; سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " الْأَرْوَاحُ جُنُودٌ مُجَنَّدَةٌ ، فَمَا تَعَارَفَ مِنْهَا ائْتَلَفَ ، وَمَا تَنَاكَرَ مِنْهَا اخْتَلَفَ " . قَالَ : وَلَا أَعْلَمُ إِلَّا قَالَ فِي الْحَدِيثِ : وَلَا تُعْرَفُ تِلْكَ الْمَرْأَةُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ َوالطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین

عمرہ بنت عبدالرحمن بیان کرتی ہیں : مکہ میں ایک خاتون تھی ، جس کے مزاج میں مزاح کا عنصر غالب تھا ، وہ اپنے جیسی ایک خاتون کے ہاں ٹھہری ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اس بات کی اطلاع ملی تو انہوں نے فرمایا : میرے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ ارشاد فرمایا ہے ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ارواح گروہوں کی شکل میں رہتی تھیں ، ان میں سے جو ( عالم ارواح میں ) ایک دوسرے سے متعارف تھیں ، وہ ( دنیا میں ) ایک دوسرے سے مانوس ہوتی ہیں اور جو ( عالم ارواح میں ) ایک دوسرے سے ناآشنا تھیں ، وہ ( دنیا میں ) ایک دوسرے سے لاتعلق رہتی ہیں ۔ “ راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے : روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : وہ ( عورت ) اُس خاتون سے واقف نہیں تھی ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17974
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ جید