مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ نَامَ عَنْ صَلَاةٍ أَوْ نَسِيَهَا . باب: جو شخص نماز کے وقت سویا رہ جائے یا اسے بھول جائے اس کا حکم
وَعَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَسِيرٍ فَعَرَّسَ مِنَ اللَّيْلِ فَلَمْ يَسْتَيْقِظْ إِلَّا بِالشَّمْسِ . قَالَ : فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِلَالًا فَأَذَّنَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ . قَالَ : فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : مَا يَسُرُّنِي الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا - يَعْنِي لِلرُّخْصَةِ - . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى وَقَالَ : مَا يَسُرُّنِي بِهِ الدُّنْيَا ، وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، فَرَوَاهُ أَحْمَدُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنْ رَجُلٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر کر رہے تھے آپ نے رات کے وقت پڑاؤ کیا ( سب لوگ سو گئے ) اور دھوپ کی وجہ سے بیدار ہوئے راوی بیان کرتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا انہوں نے اذان دی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعات ادا کیں راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : دنیا اور اس میں موجود کوئی بھی چیز مجھے اتنا خوش نہیں کرتی راوی بیان کرتے ہیں : ان کی مراد یہ تھی کہ رخصت کے حوالے سے ایسا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : اس کے عوض میں دنیا مجھے خوش نہیں کرے گی ۔ یہ روایت امام بزار نے امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے امام أحمد نے اسے یزید بن ابوزیاد کے حوالے سے ایک شخص کے حوالے سے طیب بن سلمہ کے حوالے سے مسروق کے حوالے سے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کیا ہے ۔ امام ابویعلیٰ کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔