مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ نَامَ عَنْ صَلَاةٍ أَوْ نَسِيَهَا . باب: جو شخص نماز کے وقت سویا رہ جائے یا اسے بھول جائے اس کا حکم
وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ إِذْ مَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَوْ قَالَ : مَادَ - عَنْ رَاحِلَتِهِ ، فَدَعَمْتُهُ بِيَدِي فَاسْتَيْقَظَ . قَالَ : ثُمَّ سِرْنَا فَمَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ رَاحِلَتِهِ ، فَدَعَمْتُهُ فَاسْتَيْقَظَ ، فَقَالَ : أَبُو قَتَادَةَ ؟ فَقُلْتُ : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ : حَفِظَكَ اللَّهُ كَمَا حَفِظْتَنَا مُنْذُ اللَّيْلَةَ " ثُمَّ قَالَ : " لَا أَرَانَا إِلَّا قَدْ شَقَقْنَا عَلَيْكَ ، نَحِّ بِنَا عَنِ الطَّرِيقِ " . فَأَنَاخَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَاحِلَتَهُ ، فَتَوَسَّدَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا ذِرَاعَ رَاحِلَتِهِ ، فَمَا اسْتَيْقَظْنَا حَتَّى أَشْرَقَتِ الشَّمْسُ . قَالَ : وَذَكَرَ صَوْتَ الصُّرَدِ . قَالَ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلَكْنَا ; فَاتَتْنَا الصَّلَاةُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَمْ تَهْلَكُوا ، وَلَمْ تَفُتْكُمُ الصَّلَاةُ ، وَإِنَّمَا تَفُوتُ الْيَقِظَانَ وَلَا تَفُوتُ النَّائِمَ ، هَلْ مِنْ مَاءٍ ؟ " قَالَ : فَأَتَيْتُهُ بِسَطِيحَةٍ - أَوْ قَالَ : مِيضَأَةٍ - فِيهَا مَاءٌ ، فَتَوَضَّأَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ دَفَعَهَا إِلَيَّ وَفِيهَا بَقِيَّةٌ مِنْ مَاءٍ ، قَالَ : " احْتَفِظَ بِهَا ; فَإِنَّهُ كَائِنٌ لَهَا نَبَأٌ " وَأَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ ، فَتَوَضَّأَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ تَحَوَّلَ مِنْ مَكَانِهِ فَأَمَرَهُ فَأَقَامَ الصَّلَاةَ فَصَلَّى صَلَاةَ الصُّبْحِ ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنْ كَانَ النَّاسُ أَطَاعُوا أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ فَقَدْ رَفُقُوا بِأَنْفُسِهِمْ وَأَصَابُوا ، وَإِنْ كَانُوا خَالَفُوهُمَا فَقَدْ خَرَقُوا بِأَنْفُسِهِمْ " وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرَ حِينَ فَقَدُوا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَا لِلنَّاسِ : أَقِيمُوا بِالْمَاءِ حَتَّى تُصْبِحُوا ، فَأَبَوْا عَلَيْهِمَا ، وَانْتَهَى إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ آخَرِ النَّهَارِ وَقَدْ كَادُوا أَنْ يَهْلِكُوا عَطَشًا ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلَكْنَا ، فَدَعَا بِالْمِيضَأَةِ ثُمَّ دَعَا بِإِنَاءٍ فَوْقَ الْقَدَحِ وَدُونَ الْقَعْبِ فَتَأَبَّطَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ جَعَلَ يَصُبُّ فِي الْإِنَاءِ وَيَشْرَبُ الْقَوْمُ حَتَّى شَرِبُوا كُلُّهُمْ ، ثُمَّ نَادَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هَلْ مِنْ غَالٍّ ؟ " ثُمَّ رَدَّ الْمِيضَأَةَ وَفِيهَا نَحْوُ مَا كَانَ فِيهَا ، فَسَأَلْنَاهُ : كَمْ كُنْتُمْ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ ثَمَانِينَ رَجُلًا ، وَكَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ عَنْ هَذَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ایک سفر کے دوران ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر ایک طرف ڈھلکنے لگے ( یعنی آپ سو گئے ) میں نے آپ کو پکڑ لیا آپ بیدار ہو گئے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر ہم چلتے رہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پھر اپنی سواری سے ایک طرف جھکنے لگے ، تو میں نے آپ کو پکڑ لیا آپ بیدار ہو گئے آپ نے فرمایا : ابوقتادہ ہو میں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالی تمہاری حفاظت کرے جس طرح تم نے آج رات ہماری حفاظت کی ہے پھر آپ نے ارشاد فرمایا : میرا یہ خیال ہے کہ ہم تمہیں مشقت کا شکار کر رہے ہیں تم ہمارے ساتھ عام راستے سے ہٹ جاؤ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سواری کو بٹھایا پھر ہم میں سے ہر شخص نے اپنی سواری کو بٹھایا پھر ہم میں سے ہر شخص نے اپنی سواری کی ٹانگ کو تکیہ بنایا ( اور ہم سب سو گئے ) ہم لوگ بیدار نہیں ہوئے یہاں تک کہ سورج روشن ہو گیا راوی بیان کرتے ہیں : انہوں نے صرد کی آواز کا ذکر کیا راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم ہلاکت کا شکار ہو گئے ہماری نماز رہ گئی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ ہلاکت کا شکار نہیں ہوئے اور تمہاری نماز نہیں رہ گئی نماز بیدار ہونے والے کی رہتی ہے سونے والے کی نماز نہیں رہتی ہے کیا پانی ہے راوی کہتے ہیں : میں ایک برتن لے کر آپ کے پاس آیا جس میں پانی موجود تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا پھر وہ برتن میری طرف بڑھا دیا اس میں باقی بچا ہوا پانی موجود تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اس کا دھیان رکھنا اس کے حوالے سے عنقریب ایک بات سامنے آئے گی پھر آپ نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا انہوں نے اذان دی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا پھر آپ نے دور کعاتیں ادا کیں پھر آپ اپنی اس جگہ سے منتقل ہو گئے پھر آپ نے انہیں حکم دیا سیدنا بلال نے نماز کے لئے اقامت کہی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز ادا کی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر کی اطاعت کریں گے ، تو وہ اپنے لئے نرمی کریں گے اور ٹھیک رہیں گے اور اگر لوگ ان دونوں کی مخالفت کریں گے ، تو اپنی ذات کو نقصان پہنچائیں گے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو غیر موجود پایا تو لوگوں سے دریافت کیا : تم لوگ پانی کے پاس ٹھہرے رہو جب تک صبح نہیں ہو جاتی لوگوں نے ان دونوں کی بات نہیں مانی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کے پاس دن کے آخری حصے میں پہنچے یہاں تک کہ وہ لوگ پیاس کی وجہ سے ہلاکت کا شکار ہونے کے قریب تھے لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم ہلاکت کا شکار ہو رہے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کا برتن منگوایا جو پیالے سے ذرا بڑا تھا اور بڑے پیالے سے کم تھا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس برتن میں سے پانی انڈیلنا شروع کیا اور لوگوں نے پانی پینا شروع کیا یہاں تک کہ سب لوگوں نے پانی پی لیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز میں پکار کر کہا: کیا کوئی لینے والا ہے ، پھر آپ نے برتن واپس کیا تو اس میں اتنا ہی پانی موجود تھا جتنا پہلے تھا راوی بیان کرتے ہیں : ہم نے صحابی سے دریافت کیا : آپ لوگ کتنی تعداد میں تھے ؟ تو انہوں نے بتایا : سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سمیت ہم لوگ اسی افراد تھے ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بارہ افراد تھے ۔ مصنف فرماتے ہیں : ” صحیح “ میں یہ روایت اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔