مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ يَطْلُبُ رِضَا اللَّهِ تَعَالَى . باب: اس شخص کا بیان ، جو اللہ تعالیٰ کی رضا طلب کرتا ہے
عَنْ ثَوْبَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ الْعَبْدَ لَيَلْتَمِسُ مَرْضَاةَ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - فَلَا يَزَالُ كَذَلِكَ فَيَقُولُ : يَا جِبْرِيلُ ، إِنَّ عَبْدِي فُلَانًا يَلْتَمِسُ أَنْ يُرْضِيَنِي بِرِضَائِي عَلَيْهِ " . قَالَ : " فَيَقُولُ جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَى فُلَانٍ ، وَتَقُولُ حَمَلَةُ الْعَرْشِ ، وَيَقُولُ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، حَتَّى يَقُولَ أَهْلُ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ ، ثُمَّ يَهْبِطُ إِلَى الْأَرْضِ " . ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَهِيَ الْآيَةُ الَّتِي أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ فِي كِتَابِهِ : " إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَيَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمَنُ وُدًّا " . وَإِنَّ الْعَبْدَ لَيَلْتَمِسُ سُخْطَ اللَّهِ فَيَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - : يَا جِبْرِيلُ ، إِنَّ فُلَانًا يَسْتَسْخِطُنِي ، أَلَا وَإِنَّ غَضَبِي عَلَيْهِ ، فَيَقُولُ جِبْرِيلُ : غَضِبَ اللَّهُ عَلَى فُلَانٍ ، وَتَقُولُ حَمَلَةُ الْعَرْشِ ، وَيَقُولُ مَنْ دُونَهُمْ حَتَّى يَقُولَهُ أَهْلُ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ ، ثُمَّ يَهْبِطُ إِلَى الْأَرْضِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بندہ اللہ تعالیٰ کی رضامندی تلاش کرتا ہے اور وہ مسلسل ایسا کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اے جبرائیل ! میرا فلاں بندہ یہ کوشش کر رہا ہے کہ وہ مجھے راضی کر دے ، تو میں اس سے راضی ہوں ، تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام کہتے ہیں : اللہ تعالیٰ کی رحمت فلاں شخص پر نازل ہو ، عرش کو اٹھانے والے فرشتے یہ بات کہتے ہیں ، ان کے ساتھ والے فرشتے یہ بات کہتے ہیں ، یہاں تک کہ ساتوں آسمانوں کے رہنے والے یہ بات کہتے ہیں اور پھر یہ چیز زمین کی طرف اتار دی جاتی ہے ۔ “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ آیت ہے جو اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں تم پر نازل کی ہے : ” بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کئے ، عنقریب رحمان ان کے لئے محبت بنا دے گا ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بعض اوقات کوئی بندہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کے کام کرتا رہتا ہے تو اللہ تعالی یہ فرماتا ہے : اے جبرائیل ! فلاں شخص میری ناراضگی حاصل کرنا چاہتا ہے ، خبردار ! میرا غضب اس پر نازل ہو گا ، تو سیدنا جبرائیل کہتے ہیں : اللہ تعالی کا غضب فلاں پر نازل ہو گا ، پھر حاملین عرش کہتے ہیں اور ان کے پاس والے یہ کہتے ہیں ، یہاں تک کہ ساتوں آسمانوں والے یہ بات کہتے ہیں اور پھر یہ بات زمین کی طرف اتار دی جاتی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔