مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمَحَبَّةِ وَالْبِغْضَةِ ، وَالثَّنَاءِ الْحَسَنِ وَغَيْرِهِ . باب: محبت ، بغض ، اچھی تعریف اور دیگر کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 17964
وَعَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ قَيْسٍ الْفِهْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا أَتَى الرَّجُلُ الْقَوْمَ فَقَالُوا : مَرْحَبًا . فَمَرْحَبًا بِهِ يَوْمَ يَلْقَى رَبَّهُ . وَإِذَا أَتَى الرَّجُلُ الْقَوْمَ فَقَالُوا : قَحْطًا . فَقَحْطًا لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي عُمَرَ الضَّرِيرِ الْأَكْبَرِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا ضحاک بن قیس فہری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب کوئی شخص کسی قوم کے پاس آئے اور وہ لوگ یہ کہیں : خوش آمدید ! تو اس شخص کو اس وقت بھی خوش آمدید کہا: جائے گا جس دن وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا ، اور جب کوئی شخص کسی قوم کے پاس آئے اور وہ لوگ کہیں : پرے رہو ! تو قیامت کے دن بھی اسے پرے کیا جائے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ابوعمر ضریر اکبر کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔