حدیث نمبر: 17962
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالنَّبَاوَةِ أَوْ بِالنَّبَاءَةِ يَقُولُ : " يُوشِكُ أَنْ يَعْرِفُوا أَهْلَ الْجَنَّةِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ " . قَالُوا : بِمَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " بِالثَّنَاءِ الْحَسَنِ ، وَالثَّنَاءِ السَّيِّئِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ الْحَسَنِ بْنِ عَرَفَةَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے ” نباوہ “ ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ” نباۃ “ کے مقام پر ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” عنقریب اہل جہنم کے مقابلے میں اہل جنت کی شناخت ہو جائے گی ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیسے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اچھی تعریف یا بری تعریف کے ذریعے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف حسن بن عرفہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17962
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح