مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ نَامَ عَنْ صَلَاةٍ أَوْ نَسِيَهَا . باب: جو شخص نماز کے وقت سویا رہ جائے یا اسے بھول جائے اس کا حکم
وَعَنْ ذِي مِخْبَرٍ ابْنِ أَخِي النَّجَاشِيِّ قَالَ : كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزَاةٍ ، فَسَرَوْا مِنَ اللَّيْلِ مَا سَرَوْا ثُمَّ نَزَلُوا ، فَأَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " يَا ذَا مِخْبَرٍ " . قُلْتُ : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ ، فَأَخَذَ بِرَأْسِ نَاقَتِي فَقَالَ : " اقْعُدْ هَهُنَا ، وَلَا تَكُونَنَّ لُكَاعًا اللَّيْلَةَ " . فَأَخَذْتُ بِرَأْسِ النَّاقَةِ فَغَلَبَتْنِي عَيْنِي فَنِمْتُ ، وَانْسَلَّتِ النَّاقَةُ فَذَهَبَتْ ، فَلَمْ أَسْتَيْقِظْ إِلَّا بِحَرِّ الشَّمْسِ ، فَأَتَانِي النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " يَا ذَا مِخْبَرٍ " . قُلْتُ : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ . قَالَ : " كُنْتَ وَاللَّهِ اللَّيْلَةَ لُكَعَ كَمَا قُلْتُ لَكَ " ، فَتَنَحَّيْنَا عَنْ ذَلِكَ الْمَكَانِ ، فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ دَعَا أَنْ يَرُدَّ النَّاقَةَ فَجَاءَتْ بِهَا إِعْصَارُ رِيحٍ تَسُوقُهَا ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ حِينَ بَزَقَ الْفَجْرُ أَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ ، ثُمَّ صَلَّى بِنَا ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قَالَ : " هَذِهِ صَلَاتُنَا بِالْأَمْسِ " ثُمَّ ائْتَنَفَ صَلَاةَ يَوْمِهِ ذَلِكَ . ¤ قُلْتُ : رَوَى أَبُو دَاوُدَ مِنْهُ طَرَفًا يَسِيرًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، رَوَى عَنْهُ دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ وَلَمْ أَرَ لَهُ رَاوِيًا غَيْرَهُ ، وَرَوَى هُوَ عَنْ جَمَاعَةٍ مِنَ الصَّحَابَةِ . ¤سیدنا ذومخبر رضی اللہ عنہ جو نجاشی کے بھتیجے ہیں وہ بیان کرتے ہیں : میں ایک غزوہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا لوگ رات بھر سفر کرتے رہے پھر انہوں نے پڑاؤ کر لیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے آپ نے ارشاد فرمایا : اے ذومخبر میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں حاضر ہوں سعادت مندی آپ کے ذریعے حاصل ہوتی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری اونٹنی کا سر پکڑا اور فرمایا تم یہاں بیٹھے رہو اور آج رات تم بچے نہ بن جانا ( یعنی سو نہ جانا ) تو میں نے اونٹنی کا سر پکڑ لیا پھر میری آنکھ لگ گئی اور میں سو گیا اونٹنی کھسک گئی اور چلی گئی میں سورج کی تپش کی وجہ سے بیدار ہوا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور آپ نے فرمایا : اے ذومخبر میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں حاضر ہوں ، اور سعادت مندی آپ کے ذریعے حاصل ہو سکتی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ کی قسم گزشتہ رات تم بچے بن گئے جس طرح میں نے تم سے کہا: تھا پھر ہم لوگ اس جگہ سے ہٹ گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی جب آپ نے نماز مکمل کی تو آپ نے اونٹنی منگوائی تو ہوائیں اسے ساتھ لے کے ہانکتی ہوئی آئیں جب اگلا دن ہوا تو جیسے ہی صبح صادق ہوئی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا انہوں نے اذان دی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا انہوں نے اقامت کہی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی جب آپ نے نماز مکمل کر لی تو آپ نے ارشاد فرمایا : یہ ہماری گزشتہ کل والی نماز ہے پھر آپ نے اس دن کی نماز دوبارہ ادا کی ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عباس بن عبدالرحمن ہے داؤد بن ابوہند نے اس سے روایت نقل کی ہے : میں نے اس کے علاوہ کسی اور شخص کو اس راوی سے روایت نقل کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، اور اس شخص نے صحابہ کرام کی ایک جماعت سے احادیث روایت کی ہیں ۔