حدیث نمبر: 17953
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَقُولُ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - : مَنْ عَادَى لِي وَلِيًّا فَقَدْ نَاصَبَنِي بِالْمُحَارَبَةِ ، وَمَا تَرَدَّدْتُ عَنْ شَيْءٍ أَنَا فَاعِلُهُ كَتَرَدُّدِي عَنْ مَوْتِ الْمُؤْمِنِ ، يَكْرَهُ الْمَوْتَ وَأَكْرَهُ مَسَاءَتَهُ ، وَرُبَّمَا سَأَلَنِي وَلِيِّيَ الْمُؤْمِنُ الْغِنَى فَأَصْرِفُهُ مِنَ الْغِنَى إِلَى الْفَقْرِ ، وَلَوْ صَرَفْتُهُ إِلَى الْغِنَى لَكَانَ شَرًّا لَهُ ، وَرُبَّمَا سَأَلَنِي وَلِيِّيَ الْمُؤْمِنُ الْفَقْرَ فَأَصْرِفُهُ إِلَى الْغِنَى ، وَلَوْ صَرَفْتُهُ إِلَى الْفَقْرِ لَكَانَ شَرًّا لَهُ . إِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - قَالَ : وَعِزَّتِي ، وَجَلَالِي ، وَعُلُوِّي ، وَبَهَائِي ، وَجَمَالِي ، وَارْتِفَاعِ مَكَانِي ، لَا يُؤْثِرُ عَبْدِي هَوَايَ عَلَى هَوَى نَفْسِهِ إِلَّا أَثْبَتُّ أَجَلَهُ عِنْدَ نَصْرِهِ ، وَضَمِنَتْ لَهُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ رِزْقَهُ ، وَكُنْتُ لَهُ مِنْ وَرَاءِ تِجَارَةِ كُلِّ تَاجِرٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : جو شخص میرے ولی کے ساتھ دشمنی رکھتا ہے وہ میرے ساتھ جنگ کرتا ہے اور مجھے کسی بھی کام کو کرنے میں اتنا تردد نہیں ہوتا ، جتنا مومن کی موت کے حوالے سے تردد ہوتا ہے کیونکہ وہ موت کو ناپسند کرتا ہے اور میں اس چیز کو ناپسند کرتا ہوں جو اسے بری لگتی ہے ، بعض اوقات میرا مومن ولی مجھ سے خوشحالی مانگتا ہے اور میں اسے خوشحالی سے پھیر کر غربت کی طرف کر دیتا ہوں ، اگر میں اسے خوشحالی کی طرف کرتا تو یہ اس کے حق میں برا ہوتا ، اسی طرح بعض اوقات میرا کوئی مومن ولی مجھ سے غربت مانگتا ہے اور میں اسے خوشحالی کی طرف کر دیتا ہوں ، اگر میں اسے غربت کی طرف پھیرتا تو یہ اس کے حق میں برا ہوتا ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : مجھے اپنی عزت ، اپنے جلال ، اپنے بلند مرتبے ، اپنی عظمت ، اپنے جمال ، اپنے مقام کی بلندی کی قسم ہے ! جب بھی میرا بندہ میری پسند کو اپنی خواہش پر ترجیح دیتا ہے تو میں اس کی اجل کو اس کی نگاہ کے پاس ثابت رکھتا ہوں اور زمین و آسمان اس کے لئے رزق کے ضامن ہو جاتے ہیں اور میں اس کے لئے ہر تاجر کی تجارت سے پرے ہو جاتا ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17953
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12719)»