مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ آذَى أَوْلِيَاءَ اللَّهِ . باب: اس شخص کا بیان ، جو اولیاء اللہ کو اذیت پہنچائے
وَعَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " قَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - : مَنْ آذَى لِي وَلِيًّا فَقَدِ اسْتَحَلَّ مُحَارَبَتِي ، وَمَا تَقَرَّبَ إِلَيَّ عَبْدِي بِمِثْلِ أَدَاءِ فَرِيضَتِي ، وَإِنَّهُ لَيَتَقَرَّبُ إِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّى أُحِبَّهُ ، فَإِذَا أَحْبَبْتُهُ كُنْتُ رِجْلَهُ الَّتِي يَمْشِي بِهَا ، وَيَدَهُ الَّتِي يَبْطِشُ بِهَا ، وَلِسَانَهُ الَّذِي يَنْطِقُ بِهِ ، وَقَلْبَهُ الَّذِي يَعْقِلُ بِهِ ، وَإِنْ سَأَلَنِي أَعْطَيْتُهُ ، وَإِنْ دَعَانِي أَجَبْتُهُ ، وَمَا تَرَدَّدْتُ عَنْ شَيْءٍ أَنَا فَاعِلُهُ كَتَرَدُّدِي عَنْ مَوْتِهِ ، وَذَلِكَ أَنَّهُ يَكْرَهُ الْمَوْتَ وَأَنَا أَكْرَهُ مَسَاءَتَهُ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ” اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : جو شخص میرے ولی کو اذیت پہنچاتا ہے وہ میرے ساتھ جنگ کو حلال قرار دے دیتا ہے اور میرا بندہ کسی ایسی چیز کے ذریعے میرا قرب حاصل نہیں کرتا ، جو میرے مقرر کردہ فرض کی ادائیگی جیسی ہوا اور بندہ نوافل کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں اور جب میں اس سے محبت کرتا ہوں تو میں اس کے پاؤں بن جاتا ہوں ، جن سے وہ چلتا ہے ، اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں ، جس کے ذریعے وہ پکڑتا ہے ، اس کی زبان بن جاتا ہوں ، جس کے ذریعے وہ گفتگو کرتا ہے ، اس کا دل بن جاتا ہوں جس کے ذریعے وہ سمجھتا ہے ، اگر وہ مجھ سے مانگے تو میں اسے عطا کرتا ہوں ، اگر وہ مجھ سے دعا مانگے تو میں وہ قبول کرتا ہوں ، مجھے کسی بھی کام کو کرنے کے بارے میں اتنا تردد نہیں ہوتا ، جتنا مجھے اپنے بندے کی موت کے حوالے سے تردد ہوتا ہے ، وہ موت کو ناپسند کرتا ہے اور جو چیز اسے بری لگے ، میں بھی اسے ناپسند کرتا ہوں ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے اور وہ کذاب ہے ۔