مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ نَامَ عَنْ صَلَاةٍ أَوْ نَسِيَهَا . باب: جو شخص نماز کے وقت سویا رہ جائے یا اسے بھول جائے اس کا حکم
وَعَنْ ذِي مُخْبِرٍ - وَكَانَ رَجُلًا مِنَ الْحَبَشَةِ يَخْدُمُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : كُنَّا مَعَهُ فِي سَفَرٍ ، فَأَسْرَعَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - السَّيْرَ حِينَ انْصَرَفَ ، وَكَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ لِقِلَّةِ الزَّادِ ، فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، انْقَطَعَ النَّاسُ وَرَاءَكَ ، فَحَبَسَ وَحَبَسَ النَّاسُ مَعَهُ حَتَّى تَكَامَلُوا إِلَيْهِ ، فَقَالَ لَهُمْ : " هَلْ لَكَمَ أَنْ نَهْجَعَ هَجْعَةً - أَوْ قَالَ قَائِلٌ : فَنَزَلَ وَنَزَلُوا - فَقَالَ : " مَنْ يَكْلَأُنَا اللَّيْلَةَ ؟ " فَقُلْتُ : أَنَا جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاكَ ، فَأَعْطَانِي خِطَامَ نَاقَتِهِ فَقَالَ : " هَاكَ ، لَا تَكُونَنَّ لُكَعَ " . قَالَ : فَأَخَذْتُ بِخِطَامِ نَاقَةِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَخِطَامِ نَاقَتِي ، فَتَنَحَّيْتُ غَيْرَ بَعِيدٍ فَخَلَّيْتُ سَبِيلَهُمَا تَرْعَيَانِ ، فَإِنِّي كَذَلِكَ أَنْظُرُ إِلَيْهِمَا أَخَذَنِي النَّوْمُ ، فَلَمْ أَشْعُرْ بِشَيْءٍ حَتَّى وَجَدْتُ حَرَّ الشَّمْسِ عَلَى وَجْهِي ، فَاسْتَيْقَظْتُ فَنَظَرْتُ يَمِينًا وَشِمَالًا ، فَإِذَا أَنَا بِالرَّاحِلَتَيْنِ مِنِّي غَيْرَ بَعِيدٍ ، فَأَخَذْتُ بِخِطَامِ نَاقَةِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبِخِطَامِ نَاقَتِي ، فَأَتَيْتُ أَدْنَى الْقَوْمِ فَأَيْقَظْتُهُ ، فَقُلْتُ : أَصَلَّيْتُمْ ؟ قَالَ : لَا . فَأَيْقَظَ النَّاسُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا حَتَّى اسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " يَا بِلَالُ ، هَلْ فِي الْمِيضَأَةِ مَاءٌ ؟ " - يَعْنِي الْإِدَاوَةَ - قَالَ : نَعَمْ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاكَ ، فَأَتَاهُ بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا لَمْ يَلِتَّ مِنْهُ التُّرَابُ ، فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ ، ثُمَّ قَامَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الصُّبْحِ وَهُوَ غَيْرُ عَجِلٍ ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الصَّلَاةَ فَصَلَّى وَهُوَ غَيْرُ عَجِلٍ ، فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، أَفَرَّطْنَا ؟ قَالَ : " لَا ، قَبَضَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - أَرْوَاحَنَا وَقَدْ رَدَّهَا إِلَيْنَا ، وَقَدْ صَلَّيْنَا " . ¤ قُلْتُ : رَوَى أَبُو دَاوُدَ طَرَفًا مِنْهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا ذومخبر رضی اللہ عنہ جو حبشہ سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب ہیں وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتے رہے ہیں وہ بیان کرتے ہیں : میں ایک سفر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واپسی کے سفر میں تیزی سے چلتے ہوئے آ رہے تھے آپ ایسا اس لئے کرتے تھے کیونکہ زاد سفر کم ہو چکا ہوتا تھا ایک صاحب نے آپ کی خدمت میں عرض کی : اے اللہ کے نبی لوگ آپ سے پیچھے رہ گئے ہیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رک گئے آپ کے ساتھ والے لوگ بھی رک گئے یہاں تک کہ باقی لوگ آپ سے آ ملے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کیا تم لوگ اس بات میں دلچسپی رکھتے ہو کہ ہم تھوڑی دیر آرام کر لیں یا کوئی قیلولہ کرنے والا شخص قیلولہ کر لے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نیچے اترے باقی لوگوں نے بھی پڑاؤ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : آج رات کون ہماری پہرہ اداری کرے گا میں نے عرض کی : میں ، اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر فدا کرے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی کی لگام مجھے دی اور فرمایا یہ لو اور تم بچے نہ بن جانا ( یعنی سو نہ جانا ) راوی بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی لگام پکڑی اور اپنی اونٹنی کی لگام پکڑی اور ذرا دور ہہٹ کے بیٹھ گیا میں نے ان دونوں کو چرنے کے لئے چھوڑ دیا میں ان دونوں کو دیکھ رہا تھا اسی دوران مجھے بھی نیند آ گئی اور مجھے کسی چیز کا پتہ نہیں چلا یہاں تک کہ مجھے اپنے چہرے پر دھوپ کی تپش محسوس ہوئی میں بیدار ہو گیا میں نے دائیں بائیں دیکھا تو مجھے دونوں اونٹنیاں نظر آئیں جو زیادہ دور نہیں تھیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی لگام کو پکڑا اور اپنی اونٹنی کی لگام کو پکڑا اور میں اس فرد کے پاس آیا جو میرے سب سے زیادہ قریب تھا میں نے اسے بیدار کیا میں نے دریافت کیا : کیا تم لوگوں نے نماز ادا کی ہے ، اس نے جواب دیا : جی نہیں پھر لوگ ایک دوسرے کو بیدار کرنے لگے یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی بیدار ہو گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے بلال کیا مشکیزے میں پانی ہے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کی : جی ہاں ! اللہ تعالٰی مجھے آپ پر فدا کرے پھر وہ وضو کا پانی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کے آئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا جس سے مٹی بھی پوری طرح گیلی نہیں ہوئی پھر آپ نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا انہوں نے اذان دی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے آپ نے صبح کی نماز سے پہلے دو رکعاتیں ادا کیں اور وہ جلدی میں ادا نہیں کیں پھر آپ نے انہیں حکم دیا انہوں نے نماز کے لئے اقامت کہی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی جو جلدی ادا نہیں کی ایک صاحب نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! کیا ہم نے تفریط کی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ہماری ارواح کو قبض کر لیا تھا جب اس نے وہ ارواح ہماری طرف لوٹا دیں تو ہم نے نماز ادا کر لی ۔ مصنف فرماتے ہیں : امام ابوداؤد نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے امام أحمد کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔