حدیث نمبر: 17943
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ قَالَ : قِيلَ لِعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ : صِفْ لَنَا أَهْلَ الْأَمْصَارِ ، قَالَ : أَهْلُ الْحِجَازِ أَحْرَصُ النَّاسِ عَلَى فِتْنَةٍ ، وَأَعْجَزُهُمْ عَنْهَا ، وَأَهْلُ الْعِرَاقِ أَحْرَصُهُ عَلَى عِلْمٍ ، وَأَبْعَدُهُ مِنْهُ ، وَأَهْلُ الشَّامِ أَطْوَعُ النَّاسِ لِلْمَخْلُوقِ فِي مَعْصِيَةِ الْخَالِقِ ، وَأَهْلُ مِصْرَ أَكْيَسُ النَّاسِ صَغِيرًا ، وَأَحْمَقُهُ كَبِيرًا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو أُمَيَّةَ بْنُ يَعْلَى ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین

علی بن زید بیان کرتے ہیں : سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے کہا: گیا : آپ مختلف علاقوں کے لوگوں کے بارے میں ہمارے سامنے تبصرہ کریں ، تو انہوں نے فرمایا : ” حجاز کے لوگ فتنہ کے بارے میں سب سے زیادہ حریص ہیں اور اس کے حوالے سے سب سے زیادہ عاجز ہیں ۔ عراق کے لوگ علم کے بارے میں سب سے زیادہ حریص ہیں اور اس سے سب سے زیادہ دور ہیں ۔ شام کے لوگ خالق کی نافرمانی میں ، مخلوق کے سب سے زیادہ فرمانبردار ہیں ۔ مصر کے لوگ ، جب چھوٹے ہوں تو سب سے زیادہ سمجھدار ہوتے ہیں اور جب بڑے ہوں ، تو سب سے زیادہ احمق ہوتے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوامیہ بن یعلی ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17943
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جدا
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13185)»