مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْفِرَاسَةِ . باب: فراست کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : أَفَرَسُ النَّاسِ ثَلَاثَةٌ : صَاحِبَةُ مُوسَى الَّتِي قَالَتْ : ( يَاأَبَتِ اسْتَأْجِرْهُ إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْأَمِينُ ) ، [ قَالَ : وَمَا رَأَيْتِ مِنْ قُوَّتِهِ ؟ قَالَتْ : جَاءَ إِلَى الْبِئْرِ وَعَلَيْهِ صَخْرَةٌ لَا يُقِلُّهَا كَذَا وَكَذَا ، فَرَفَعَهَا ] قَالَ : وَمَا رَأَيْتِ مِنْ أَمَانَتِهِ ؟ قَالَتْ : كُنْتُ أَمْشِي أَمَامَهُ فَجَعَلَنِي خَلْفَهُ . وَصَاحِبُ يُوسُفَ حِينَ قَالَ : ( أَكْرِمِي مَثْوَاهُ عَسَى أَنْ يَنْفَعَنَا أَوْ نَتَّخِذَهُ وَلَدًا ) . وَأَبُو بَكْرٍ حِينَ اسْتَخْلَفَ عُمَرَ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” سب سے زیادہ فراست کے مالک افراد تین ہیں : سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے واقعہ والی خاتون ، جس نے یہ کہا: تھا : ( جس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں ہے : ) ” اے ابا جان ! آپ انہیں ملازم رکھ لیں کیونکہ یہ اچھے ملازم ہوں گے ، یہ طاقتور بھی ہیں اور امین بھی ۔ “ سیدنا شعیب علیہ السلام نے دریافت کیا : تمہیں کیسے پتہ چلا کہ یہ طاقتور ہے ؟ اس خاتون نے بتایا : یہ کنویں کے پاس آئے اس پر ایک بھاری پتھر رکھا ہوا تھا ، جسے اتنے اتنے لوگ مل کے ہلا سکتے تھے ، لیکن انہوں نے اس کو اٹھا لیا ، سیدنا شعیب علیہ السلام نے دریافت کیا : اور اس کے امین ہونے کا تمہیں کیسے پتا چلا ؟ اس خاتون نے بتایا : میں ان کے آگے چلتی ہوئی جا رہی تھی ، تو انہوں نے مجھے اپنے پیچھے کر لیا ۔ ( سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : دوسرا سب سے زیادہ فراست والا فرد ) سیدنا یوسف علیہ السلام کے واقعہ والا فرد ہے جس نے یہ کہا: تھا : ( جس کے الفاظ قرآن نے ان الفاظ میں نقل کئے ہیں : ) ” تم اس کا دھیان رکھو ! ہو سکتا ہے یہ ہمیں نفع پہنچائے یا ہم اسے بیٹا بنا لیں ۔ “ ( سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تیسرا سب سے زیادہ فراست والا فرد ) سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں ، جنہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اپنا جانشین مقرر کیا ۔ “