مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يَصِيرُ إِلَيْهِ الْفَقِيرُ الْمُؤْمِنُ ، وَالْغَنِيُّ الْكَافِرُ . باب: غریب مومن اور مال دار کافر کا انجام کیا ہو گا ؟
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ مُوسَى قَالَ : أَيْ رَبِّ ، إِنَّ عَبْدَكَ الْمُؤْمِنَ تَقْتُرُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا ، قَالَ : فَيُفْتَحُ لَهُ بَابٌ إِلَى الْجَنَّةِ فَيَنْظُرُ إِلَيْهَا فَيَقُولُ : يَا مُوسَى ، هَذَا مَا أَعْدَدْتُ لَهُ . فَيَقُولُ مُوسَى : وَعِزَّتِكَ وَجَلَالِكَ ، لَوْ كَانَ أَقْطَعَ الْيَدَيْنِ وَالرِّجْلَيْنِ يُسْحَبُ عَلَى وَجْهِهِ مُنْذُ [ يَوْمِ ] خَلَقْتَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، وَكَانَ هَذَا مَصِيرَهُ لَمْ يَرَ بُؤْسًا قَطُّ " . قَالَ : " ثُمَّ قَالَ مُوسَى : أَيْ رَبِّ ، عَبْدُكَ الْكَافِرُ تُوَسِّعُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا ، قَالَ : فَيُفْتَحُ لَهُ بَابٌ مِنَ النَّارِ فَيَقُولُ : يَا مُوسَى ، هَذَا مَا أَعْدَدْتُ لَهُ . فَقَالَ مُوسَى : أَيْ وَعِزَّتِكَ وَجَلَالِكَ ، لَوْ كَانَتْ لَهُ الدُّنْيَا مُنْذُ يَوْمَ خَلَقْتَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَكَانَ هَذَا مَصِيرَهُ ، لَمْ يَرَ خَيْرًا قَطُّ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَدَرَّاجٌ ، وَقَدْ وُثِّقَا عَلَى ضَعْفٍ فِيهِمَا . ¤سیدنا ابوسعید خدری صلی اللہ علیہ وسلم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی : اے میرے پروردگار ! تیرے مومن بندے کا یہ حال ہوتا ہے کہ تو اس کو دنیا میں تنگی کا شکار کر دیتا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ان کے لیے جنت کا دروازہ کھولا گیا انہوں نے جنت کو دیکھا ، پروردگار نے فرمایا : اے موسیٰ ! یہ میں نے اس ( غریب مومن ) کے لئے تیار کی ہے ، تو سیدنا موسیٰ علیہا السلام نے عرض کی : تیری عزت اور تیرے جلال کی قسم ہے ، اگر اس کے دونوں بازو اور دونوں پاؤں کاٹ دیے جائیں اور پھر اس کی پیدائش کے دن سے لے کر قیامت کے دن تک اسے چہرے کے بل گھسیٹا جائے ، لیکن اس کا انجام یہ ہو ، تو اس شخص نے کبھی کوئی پریشانی نہیں دیکھی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : پھر سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے کہا: اے میرے پروردگار ! تو اپنے کافر بندے کو دنیا میں کشادگی نصیب کرتا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ان کے لئے جہنم کا دروازہ کھولا گیا پروردگار نے فرمایا : اے موسیٰ ! یہ میں نے اس ( خوشحال کافر ) کے لئے تیار کی ہے ، سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی : اے میرے پروردگار ! تیری عزت اور تیرے جلال کی قسم ہے ! جس دن تو نے اس کو پیدا کیا تھا ، اس دن سے لے کر قیامت کے دن تک اگر اسے ساری دنیا بھی مل جائے اور اس کا انجام یہ ہو ، تو گویا اس نے کبھی کوئی بھلائی نہیں دیکھی ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ اور ایک راوی دراج ہے اور ان دونوں میں پائے جانے والے ضعف کے باوجود ان دونوں کی توثیق کی گئی ہے ۔