مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ لَا يُؤْبَهُ لَهُ . باب: اس شخص کا بیان ، جس کی پرواہ نہ کی جاتی ہو
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ ؟ " . قُلْنَا : بَلَى . يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " كُلُّ ضَعِيفٍ مُتَضَعِّفٍ ذِي طِمْرَيْنِ ، لَا يُؤْبَهُ لَهُ ، لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ . أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ النَّارِ ؟ " . قُلْنَا : بَلَى . يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " كُلُّ جَظٍّ ، جَعْظٍ ، مُسْتَكْبِرٍ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا الْجَظُّ ؟ قَالَ : " الضَّخْمُ " . قُلْتُ : فَمَا الْجَعْظُ ؟ قَالَ : " الْعَظِيمُ فِي نَفْسِهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ : عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا میں تمہیں اہل جنت کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ ہم نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہر کمزور شخص جو کم تر حیثیت کا مالک ہو ، جس کا لباس عام سا ہو ، جس کی پرواہ نہ کی جاتی ہو ، لیکن اگر وہ اللہ کے نام پر قسم اٹھا لے تو اللہ تعالیٰ اسے پوری کروا دے ، کیا میں تمہیں اہل جہنم کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ ہم نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہر ” جظ “ - ” جعظ “ ۔ ” متکبر ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ” جظ “ سے مراد کیا ہے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : جو بھاری بھرکم ہو ، میں نے دریافت کیا : ” جعظ “ سے مراد کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : جو خود کو بڑا سمجھتا ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں ، اپنے استاد عبداللہ بن محمد بن سعید بن ابومریم کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔