حدیث نمبر: 17909
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا أُعَلِّمُكُمْ خَمْسًا : حُبَّ الْمَسَاكِينِ وَالدُّنُوَّ مِنْهُمْ ، وَانْظُرُوا إِلَى مَنْ هُوَ أَسْفَلَ مِنْكُمْ ، وَلَا تَنْظُرُوا إِلَى مَنْ فَوْقَكُمْ ، وَصِلُوا الرَّحِمَ وَإِنْ أَدْبَرَتْ ، وَقُولُوا الْحَقَّ وَإِنْ كَانَ مُرًّا ، وَأَكْثِرُوا مِنْ قَوْلِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ جَرِيرُ بْنُ أَيُّوبَ الْبَجَلِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا میں تمہیں پانچ باتوں کی تعلیم نہ دوں ؟ غریبوں سے محبت رکھنا اور ان کے قریب رہنا ، اور تم لوگ اس کا جائزہ لو جو تم سے نیچے ہو ، اس کی طرف نہ دیکھو جو تم سے اوپر ہو ، اور تم صلہ رحمی کرو ، اگرچہ تمہارے ساتھ ایسا نہ ہو رہا ہو ، اور تم حق بات کہو ، اگرچہ وہ کڑوی ہو اور تم کثرت کے ساتھ ” لا حول ولا قوة الا بالله “ پڑھو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی جریر بن ایوب بجلی ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17909
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً