مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابُ فَضْلِ الْفُقَرَاءِ . باب: فقراء کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ : كُنْتُ فِي أَصْحَابِ الصُّفَّةِ ، فَلَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا مِنَّا إِنْسَانٌ عَلَيْهِ ثَوْبٌ تَامٌّ ، وَأَخَذَ الْعَرَقُ فِي جُلُودِنَا طُرُقًا مِنَ الْغُبَارِ وَالْوَسَخِ ، إِذْ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " لِتُبَشَّرْ فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ " . إِذْ أَقْبَلَ رَجُلٌ عَلَيْهِ شَارَةٌ حَسَنَةٌ ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَتَكَلَّمُ بِكَلَامٍ إِلَّا كَلَّفَتْهُ نَفْسُهُ أَنْ يَأْتِيَ بِكَلَامٍ يَعْلُو كَلَامَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ هَذَا وَضَرَبَهُ ، يَلْوُونَ أَلْسِنَتَهُمْ كَلَيِّ الْبَقَرِ بِلِسَانِهَا الْمَرْعَى ، كَذَلِكَ يَلْوِي اللَّهُ تَعَالَى أَلْسِنَتَهُمْ وَوُجُوهَهُمْ فِي النَّارِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُ أَحَدِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں اصحاب صفہ میں تھا ، مجھے اپنے بارے میں یہ بات یاد ہے کہ ہم میں سے کسی شخص کے جسم پر مکمل لباس نہیں ہوتا تھا اور ہمارے چمڑے کے لباس پر غبار اور میل کچیل کے ہمراہ پسینہ بھی آ جایا کرتا تھا ، ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، آپ نے فرمایا : غریب مہاجرین کے لیے خوشخبری ہے ، راوی بیان کرتے ہیں : اسی دوران ایک شخص جو ظاہری حلیے سے خوشحال لگ رہا تھا وہ آ گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جو بھی بات کرتے تھے تو وہ شخص یہ کوشش کرتا تھا کہ اس کی بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سے زیادہ نمایاں ہو ، جب وہ شخص واپس چلا گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ اس شخص اور اس جیسے لوگوں کو ناپسند کرتا ہے جو لوگوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے اپنی زبان کو یوں موڑ لیتے ہیں جس طرح چراگاہ میں گائے اپنی زبان کو موڑتی ہے اور جہنم میں ، اللہ تعالی ان کی زبانوں اور ان کے چہروں کو موڑ دے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔