حدیث نمبر: 17897
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ قَالَ : أَرْسَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلَى سَعِيدِ بْنِ عَامِرٍ : إِنَّا مُسْتَعْمِلُوكَ عَلَى هَؤُلَاءِ تَسِيرُ بِهِمْ إِلَى أَرْضِ الْعَدُوِّ فَتُجَاهِدُ بِهِمْ ، قَالَ : فَذَكَرَ حَدِيثًا طَوِيلًا قَالَ فِيهِ : قَالَ سَعِيدٌ : مَا أَنَا بِمُتَخَلِّفٍ عَنِ الْعَنَقِ الْأَوَّلِ بَعْدَ إِذْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ فَقُرَّاءَ الْمُسْلِمِينَ يُزَفُّونَ كَمَا تُزَفُّ الْحَمَامُ " . قَالَ : " فَيُقَالُ لَهُمْ : قِفُوا لِلْحِسَابِ ، فَيَقُولُونَ : وَاللَّهِ ، مَا تَرَكْنَا شَيْئًا نُحَاسَبُ بِهِ . فَيَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - : صَدَقَ عِبَادِي ، فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ النَّاسِ بِسَبْعِينَ عَامًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین

عبدالرحمن بن سابط بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا سعید بن عامر رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا کہ میں تمہیں ان لوگوں کا امیر مقرر کر رہا ہوں ، تم انہیں لے کر دشمن کی سرزمین کی طرف جاؤ اور ان کے ہمراہ جہاد کرو ! راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد انہوں نے طویل حدیث ذکر کی ہے جس میں آگے چل کر یہ الفاظ ہیں : سیدنا سعید بن عامر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں کسی بھی پہلی مہم سے پیچھے نہیں رہوں گا ، اس کے بعد کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” بے شک غریب مسلمان یوں سمٹ کر جائیں گے جیسے کبوتر سمٹ کر جاتا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان لوگوں سے یہ کہا: جائے گا : تم لوگ حساب کے لیے ٹھہر جاؤ ! تو وہ کہیں گے : اللہ کی قسم ! ہم نے ایسی کوئی چیز نہیں چھوڑی تھی جس کے حوالے سے ہم سے حساب لیا جائے ، اللہ تعالیٰ فرمائے گا : میرے بندوں نے سچ کہا: ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : تو وہ لوگ ، دوسرے لوگوں سے ستر سال پہلے جنت میں داخل ہو جائیں گئے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17897
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ یہ
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5508)»