مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابُ فَضْلِ الْفُقَرَاءِ . باب: فقراء کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " تَدْخُلُ فُقَرَاءُ الْمُسْلِمِينَ قَبْلَ أَغْنِيَائِهِمْ بِنِصْفِ يَوْمٍ " . قُلْتُ : وَمَا نِصْفُ يَوْمٍ ؟ قَالَ : ( إِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَأَلْفِ سَنَةٍ ) . قَالَ : " وَيَدْخُلُونَ جَمِيعًا عَلَى صُورَةِ آدَمَ " . قُلْتُ : وَمَا كَانَتْ صُورَةُ آدَمَ ؟ قَالَ : " كَانَ اثْنَيْ عَشَرَ ذِرَاعًا طُولُهُ فِي السَّمَاءِ ، وَسِتًّا عَرْضًا " . قُلْتُ : أَيُّ ذِرَاعٍ ؟ قَالَ : " الذِّرَاعُ طُولُ الرَّجُلِ الطَّوِيلِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَدِيُّ بْنُ الْفَضْلِ التَّيْمِيُّ مَوْلَاهُمْ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” غریب مسلمان ، خوشحال مسلمانوں سے ، نصف دن پہلے ( جنت میں ) داخل ہوں گے ، راوی کہتے ہیں : میں نے دریافت کیا : نصف دن کتنا ہو گا ؟ آپ نے فرمایا : ( ارشاد باری تعالی ہے : ) ” تمہارے پروردگار کے نزدیک ایک دن ایک ہزار سال کی مانند ہے “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے تو ان سب کا قد و قامت سیدنا آدم علیہ السلام جتنا ہو گا ، میں نے دریافت کیا : سیدنا آدم علیہ السلام کا قد و قامت کتنا تھا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اُن کا قد بارہ ذراع ( یعنی کہنی سے لے کے درمیانی بڑی انگلی کے کنارے تک کی مقدار ) لمبا تھا اور چھ ذراع چوڑا تھا ، میں نے دریافت کیا : کون سا ذراع ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جتنا لمبا ” ذراع “ طویل شخص کا ہوتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عدی بن فضل تیمی ہے جو ان لوگوں کے ساتھ نسبت ولاء رکھتا ہے اور وہ ضعیف ہے ۔