مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابُ فَضْلِ الْفُقَرَاءِ . باب: فقراء کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " تَدْخُلُ فُقَرَاءُ أُمَّتِي الْجَنَّةَ قَبْلَ أَغْنِيَائِهِمْ بِأَرْبَعِينَ خَرِيفًا " . فَقِيلَ : صِفْهُمْ لَنَا . فَقَالَ : " الدَّنِسَةُ ثِيَابُهُمْ ، الشَّعِثَةُ رُءُوسُهُمْ ، الَّذِينَ لَا يُؤْذَنُ لَهُمْ عَلَى السُّدَّاتِ ، وَلَا يَنْكِحُونَ الْمُتَنَعِّمَاتِ ، تُوَكَّلُ بِهِمْ مَشَارِقُ الْأَرْضِ وَمَغَارِبُهَا ، يُعْطُونَ كُلَّ الَّذِي عَلَيْهِمْ ، وَلَا يُعْطَوْنَ كُلَّ الَّذِي لَهُمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” میری امت کے غریب لوگ ، خوشحال لوگوں سے چالیس سال پہلے جنت میں داخل ہو جائیں گے ، عرض کی گئی : ان کی صفت ہمارے سامنے بیان کریں ! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ان کے کپڑے میلے کچیلے ہوں گے ، ان کے بال بکھرے ہوئے ہوں گے ، انہیں اندر نہیں آنے دیا جائے گا ، وہ خوشحال عورتوں سے شادی نہیں کر سکیں گے ، اُن کے وسیلے سے زمین کے مشرقی اور مغربی حصوں میں کھایا جائے گا ، وہ اپنے تمام فرائض سرانجام دیں گے ، لیکن انہیں اُن کے تمام حقوق نہیں ملیں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔