مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ فِي وَقْتِ صَلَاةِ الصُّبْحِ . باب: صبح کی نماز کے وقت کا بیان
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ يَقُولُ : كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ يُغَلِّسُ بِالصُّبْحِ كَمَا يُغَلِّسُ بِهَا ابْنُ الزُّبَيْرِ ، وَيُصَلِّي الْمَغْرِبَ حِينَ تَغْرُبُ الشَّمْسُ ، وَيَقُولُ : إِنَّهُ لَكمَا قَالَ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - ( إِلَى غَسَقِ اللَّيْلِ وَقُرْآنَ الْفَجْرِ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا ) . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ يُسَمَّ . ¤عمرو بن دینار بیان کرتے ہیں : انہوں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ صبح کی نماز اسی طرح اندھیرے میں ادا کرتے تھے جیسے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما اسے اندھیرے میں ادا کرتے تھے ، اور مغرب کی نماز اس وقت ادا کر لیتے تھے جب سورج غروب ہو جاتا تھا وہ یہ کہتے تھے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ” رات کے پھیلنے تک اور فجر کی تلاوت بے شک فجر کی تلاوت میں ( فرشتوں کی ) حاضری ہوتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔