مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمُتَنَعِّمِينَ وَالْمُتَنَطِّعِينَ . باب: نعمت والے ( یعنی آسائشوں والے ) افراد
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ ، مَا رَأَيْتُ أَحَدًا كَانَ أَشَدَّ عَلَى الْمُتَنَطِّعِينَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَشُدَّ عَلَيْهِمْ مِنْ بَعْدِهِ مِنْ أَبِي بَكْرٍ ، وَإِنِّي لَأَظُنُّ عُمَرَ كَانَ أَشَدَّ أَهْلِ الْأَرْضِ خَوْفًا عَلَيْهِمْ أَوْ لَهُمْ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اُس ذات کی قسم ! جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، میں نے ایسا کوئی شخص نہیں دیکھا ، جو بنا سنوار کر بات کرنے والوں سے زیادہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ناگوار گزرتا ہو ، اور نہ ہی میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی ایسا شخص دیکھا ہے ، جو ایسے لوگوں کے لئے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے زیادہ سخت ہو ، اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں میرا یہ گمان ہے کہ وہ اہل زمین میں سب سے زیادہ سخت تھے ، کیونکہ انہیں ایسے لوگوں کے بارے میں خوف تھا ۔ یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ۔