حدیث نمبر: 17811
وَعَنْ مَيْمُونَةَ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ الدُّنْيَا حُلْوَةٌ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ ، فَمَنِ اتَّقَى فِيهَا وَأَصْلَحَ فِي ذَلِكَ ، أَلَا وَهُوَ كَالْآكِلِ وَلَا يَشْبَعُ ، فَبُعْدُ النَّاسِ كَبُعْدِ الْكَوْكَبَيْنِ : أَحَدُهُمَا يَطْلُعُ بِالْمُشْرِقِ ، وَالْآخَرُ يَغِيبُ بِالْمَغْرِبِ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ كَثِيرٍ عَنْهُ ، وَفِيهِ الْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بیشک دنیا میٹھی ، سرسبز ہے ، جو شخص اس کے بارے میں پرہیزگاری اختیار کرے گا اور اس کو ٹھیک رکھے گا ( شاید اصل متن میں کچھ الفاظ نقل نہیں ہوئے ) خبردار ! اس کی مثال ایسے کھانے والے کی مانند ہے ، جو سیر نہیں ہوتا ہے ، لوگوں کے درمیان اتنی دوری ہوتی ہے ، جتنی دو ستاروں کے درمیان دوری ہوتی ہے ، جن دونوں میں سے ایک مشرق میں طلوع ہوتا ہے اور دوسرا مغرب میں غروب ہوتا ہے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے بہت زیادہ اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مثنی بن صباح ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17811
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (7099) أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (24/24)»