حدیث نمبر: 17808
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ الدُّنْيَا حُلْوَةٌ خَضِرَةٌ ، فَمَنْ أَخَذَهَا بِحَقِّهَا بُورِكَ لَهُ فِيهَا ، وَمَنْ أَخَذَهَا بِغَيْرِ حَقِّهَا فَمَثَلُهُ كَالَّذِي يَأْكُلُ ، وَيْلٌ لِلْمُتَخَوِّضِ فِي مَالِ اللَّهِ وَمَالِ رَسُولِهِ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْمَكِّيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک دنیا میٹھی سرسبز ہے ، جو شخص اس کے حق کے ہمراہ اسے حاصل کرے گا ، اس شخص کے لیے اس میں برکت رکھی جائے گی ، اور جو شخص ناحق طور پر اسے حاصل کرے گا ، اس کی مثال ایسے شخص کی مانند ہے ، جو کھاتا ہے ( اور سیر نہیں ہوتا ہے ) اللہ تعالیٰ کے مال اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مال کے بارے میں ، ناحق امید رکھنے والوں کے لئے قیامت کے دن جہنم کے عذاب کی بربادی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن مسلم مکی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17808
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف