حدیث نمبر: 17801
وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي أَصْحَابِهِ فَقَالَ : " الْفَقْرَ تَخَافُونَ - أَوِ الْعَوَزَ - أَوَ تُهِمُّكُمُ الدُّنْيَا ; فَإِنَّ اللَّهَ فَاتِحٌ عَلَيْكُمْ فَارِسَ وَالرُّومَ ، وَتُصَبُ عَلَيْكُمُ الدُّنْيَا صَبًّا حَتَّى لَا يَزِيغَكُمْ بَعْدَ أَنْ زِغْتُمْ إِلَّا هِيَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا إِلَّا أَنَّ بَقِيَّةَ مُدَلِّسٌ ، وَإِنْ كَانَ ثِقَةً . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے درمیان کھڑے ہوئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا تمہیں غربت کا اندیشہ ہے ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ لفظ ہے : ” حاجتمندی کا اندیشہ ہے ) ، یا تمہیں دنیا کے حوالے سے پریشانی ہے ؟ اللہ تعالیٰ تمہارے لیے فارس اور روم کو فتح کر دے گا اور تم پر دنیا کو اُنڈیل دیا جائے گا ، یہاں تک کہ اگر اس کے بعد تم بھٹکے ، تو وہی ( یعنی دنیا ) تمہیں بھٹکائے گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، البتہ بقیہ نامی راوی مدلس ہے اگرچہ وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17801
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (52/18)»