حدیث نمبر: 17783
وَعَنْ أَبِي الْقَيْنِ : أَنَّهُ مَرَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَهُ تَمْرٌ عَلَى رَحْلِهِ ، فَقَامَ إِلَيْهِ عَمُّهُ ، فَأَرَادَ أَنْ يَأْخُذَ مِنْهُ قَبْضَةً لِيَضَعَهَا بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَبَطَّحَ عَلَى التَّمْرِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اللَّهُمَّ زِدْهُ شُحًّا " . قَالَ : فَكَانَ مِنْ أَشَحِّ النَّاسِ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِإِسْنَادَيْنِ : أَحَدُهُمَا مُتَّصِلٌ وَهَذَا مَتْنُهُ . وَالْآخَرُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جَمْهَانَ أَنَّ مَوْلَاهُ أَبَا الْقَيْنِ ، مَرَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : فَأَهْوَى إِلَيْهِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِيَأْخُذَ مِنْهُ قَبْضَةً يَنْثُرُهَا بَيْنَ يَدَيْ أَصْحَابِهِ . وَرِجَالُ الْمُرْسَلِ وَالْمُسْنَدِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ سَعِيدِ بْنِ جَمْهَانَ وَقَدْ وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ ، وَفِيهِ خِلَافٌ . ¤ قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي السَّخَاءِ وَالْبُخْلِ فِي كِتَابِ صَدَقَةِ التَّطَوُّعِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوالقین رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : ایک مرتبہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرے ، ان کے پاس کچھ کھجوریں تھیں ، اُن کے چچا اُٹھ کر ان کی طرف گئے ان کے چچا کا ارادہ یہ تھا کہ اُن سے مٹھی بھر کھجوریں لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے رکھ دیں گے ، لیکن ان صاحب نے کھجوروں کو سمیٹ لیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے اللہ ! اس کے بخل میں اضافہ فرما ! راوی بیان کرتے ہیں : تو وہ سب سے زیادہ بخیل شخص تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے اور ان دونوں میں سے ایک متصل ہے اور یہ اس کا متن ہے ۔ دوسری روایت سعید بن جمہان کے حوالے سے منقول ہے : ” اُن کے آقا سیدنا ابوالقین رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کی طرف ہاتھ بڑھایا تاکہ ان سے مٹھی بھر کھجوریں لے کر وہ اپنے اصحاب کے آگے رکھ دیں ۔ “ ” مرسل “ روایت کے رجال اور ” مسند “ روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف سعید بن جمہان کا معاملہ مختلف ہے اور ایک سے زیادہ افراد نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ویسے اس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے نفلی صدقہ سے متعلق کتاب میں ، سخاوت اور کنجوسی کے بارے میں احادیث گزر چکی ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17783
درجۂ حدیث محدثین: والمسند رجال الصحيح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3614 و 3615)»