مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْإِنْفَاقِ وَالْإِمْسَاكِ . باب: خرچ کرنا اور روک کے رکھنا ( یعنی خرچ نہ کرنا )
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : أُتِيَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَحْنُ عِنْدَهُ فَقِيلَ لَهُ : تُوُفِّيَ فُلَانٌ وَتَرَكَ دِينَارَيْنِ أَوْ دِرْهَمَيْنِ ، فَقَالَ : " كَيَّتَانِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ النَّخَعِيُّ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ مِنْ هَذَا الْبَابِ فِي صَدَقَةِ التَّطَوُّعِ فِي آخِرِ الزَّكَاةِ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ، اسی دوران کوئی شخص آیا اور آپ کو یہ بتایا گیا کہ فلاں شخص کا انتقال ہو گیا ہے اور اس نے دو دینار ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) دو درہم چھوڑے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : داغ لگانے والی دو چیزیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی شریک بن عبداللہ نخعی ہے ، جسے ایک سے زیادہ افراد نے ثقہ قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس مضمون سے متعلق کچھ روایات کتاب الزکوۃ کے آخر میں ، نفلی صدقہ کے متعلق باب میں گزر چکی ہیں ۔