حدیث نمبر: 17767
وَعَنْ سَلَمَةَ - يَعْنِي ابْنَ الْأَكْوَعِ - قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأُتِيَ بِجَنَازَةٍ ، ثُمَّ أُتِيَ بِأُخْرَى قَالَ : " هَلْ تَرَكَ مِنْ دَيْنٍ ؟ " . قَالُوا : لَا . قَالَ : " فَهَلْ تَرَكَ شَيْئًا ؟ " . قَالُوا : نَعَمْ . ثَلَاثَةُ الدَّنَانِيرِ ، قَالَ : فَقَالَ بِإِصْبَعِهِ ثَلَاثَ كَيَّاتٍ . رَوَاهُ أَحْمَدُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، اسی دوران ایک جنازہ لایا گیا ، پھر ایک اور جنازہ لایا گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اس نے کوئی قرض چھوڑا ہے ؟ ( یعنی ایسا قرض جو ادا کرنا اس کے ذمہ ہو ؟ ) لوگوں نے جواب دیا : جی نہیں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اس نے کوئی چیز چھوڑی ہے ؟ لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں ! تین دینار ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کے ذریعے اشارہ کر کے فرمایا کہ یہ داغ لگانے والی تین چیزیں ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے ایک طویل حدیث میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17767
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6258) اخرجه احمد فى المسند (47/4)»