مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْإِنْفَاقِ وَالْإِمْسَاكِ . باب: خرچ کرنا اور روک کے رکھنا ( یعنی خرچ نہ کرنا )
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ : كُنْتُ مَعَ أَبِي ذَرٍّ فَخَرَجَ عَطَاؤُهُ وَمَعَهُ جَارِيَةٌ لَهُ ، قَالَ : فَجَعَلَتْ تَقْضِي حَوَائِجَهُ ، فَفَضَلَ مِنْهَا سَبْعَةٌ ، فَأَمَرَهَا أَنْ تَشْتَرِيَ بِهَا فُلُوسًا ، قَالَ : قُلْتُ : لَوْ أَخَّرْتَهُ لِلْحَاجَّةِ تَنُوبُكَ ، أَوْ لِلضَّيْفِ يَنْزِلُ بِكَ ، قَالَ : إِنَّ خَلِيلِي عَهِدَ إِلَيَّ أَنَّ : أَيُّمَا ذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ أُوَلِّي عَلَيْهِ فَهُوَ جَمْرٌ عَلَى صَاحِبِهِ حَتَّى يُفْرِغَهُ إِفْرَاغًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤عبداللہ بن صامت بیان کرتے ہیں : میں سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا ، انہیں تنخواہ ملی ، اُن کے ساتھ ان کی کنیز تھی ، اس کنیز نے ادائیگیاں کرنی شروع کر دیں ، تو سات باقی بچ گئے ، سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے اس کنیز کو یہ ہدایت کی : کہ وہ ان کے ذریعہ سکے خریدے ، راوی کہتے ہیں : میں نے کہا: اگر آپ انہیں کسی پیش آنے والی ضرورت کے لئے یا کسی آنے والے مہمان کے لیے سنبھال کے رکھ لیں ، تو یہ مناسب ہو گا ، سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میرے خلیل علیہ السلام ( یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) نے مجھے یہ تلقین کی تھی ، جس شخص کو سونا یا چاندی ملتا ہے ، تو وہ اپنے متعلقہ فرد کے لئے انگارہ ہوتا ہے ، جب تک وہ شخص اُسے اللہ کی راہ میں تقسیم نہیں کر دیتا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔