حدیث نمبر: 17739
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ عُمَارَةَ : أَخِي بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ : أَنَّ رَجُلًا قَالَ لَهُ : عِظْنِي فِي نَفْسِي - يَرْحَمْكَ اللَّهُ - قَالَ : إِذَا انْتَهَيْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَأَسْبِغِ الْوُضُوءَ ; فَإِنَّهُ لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَا وُضُوءَ لَهُ ، وَلَا إِيمَانَ لِمَنْ لَا صَلَاةَ لَهُ ، ثُمَّ إِذَا صَلَّيْتَ فَصَلِّ صَلَاةَ مُوَدِّعٍ وَاتْرُكْ طَلَبَ كَثِيرٍ مِنَ الْحَاجَاتِ ; فَإِنَّهُ فَقْرٌ حَاضِرٌ ، وَاجْمَعِ الْيَأْسَ مِمَّا عِنْدَ النَّاسِ ; فَإِنَّهُ هُوَ الْغِنَى ، وَانْظُرْ مَا تَعْتَذِرُ مِنْهُ مِنَ الْقَوْلِ وَالْفِعْلِ فَاجْتَنِبْهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا سعد بن عمارہ رضی اللہ عنہ ، جن کا تعلق بنو سعد بن بکر سے ہے ، اور انہیں صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے ، اُن کے بارے میں یہ بات منقول ہے : ایک شخص نے ان سے کہا: آپ میری ذات کے بارے میں ، مجھے کوئی نصیحت کیجئے ، اللہ تعالیٰ آپ رحم کرے ! تو انہوں نے فرمایا : ” جب تم نماز ادا کرنے لگو ، تو پہلے اچھی طرح وضو کرو ، کیونکہ اس شخص کی نماز نہیں ہوتی ، جس کا وضو نہ ہو ، اور اس شخص کا ایمان نہیں ہوتا ، جس کی نماز نہ ہو ، پھر جب تم نماز ادا کرو ، تو یوں ادا کرو جیسے رخصت ہونے والا فرد نماز ادا کرتا ہے ، اور زیادہ تر حاجتوں کی طلب کو چھوڑ دو ، کیونکہ یہ ایسی غربت ہے ، جو موجود ہوتی ہے اور جو کچھ لوگوں کے پاس ہے ، اُس کے حوالے سے مایوس ہو جاؤ ، کیونکہ یہی خوشحالی ہے اور تم اس بات کا جائزہ لو ! کہ کون سے قول یا فعل کی وجہ سے معذرت کرنی پڑتی ہے ؟ تو تم اس سے اجتناب کرو !“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17739
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5455)»