مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ فِي الْمَوَاعِظِ . باب: مواعظ کا مزید بیان
وَعَنْ مَعْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ : قَالَ رَجُلٌ لِعَبْدِ اللَّهِ : أَوْصِنِي بِكَلِمَاتٍ جَوَامِعَ نَوَافِعَ ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ : اعْبُدِ اللَّهَ وَلَا تُشْرِكْ بِهِ شَيْئًا ، وَزُلْ مَعَ الْقُرْآنِ حَيْثُ زَالَ ، وَمَنْ أَتَاكَ بِحَقٍّ فَاقْبَلْ مِنْهُ وَإِنْ كَانَ بَعِيدًا ، وَمَنْ أَتَاكَ بِبَاطِلٍ فَارْدُدْهُ وَإِنْ كَانَ حَبِيبًا قَرِيبًا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، إِلَّا أَنَّ مَعْنًا لَمْ يُدْرِكِ ابْنَ مَسْعُودٍ . ¤معن بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ مجھے جامع اور نفع دینے والے کلمات کے ہمراہ نصیحت کیجیے ! تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا : ” تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور تم کسی کو اُس کا شریک نہ ٹھہراؤ ، اور قرآن جہاں ہو ، تم اس کے ساتھ رہو ، جو شخص تمہارے پاس حق لے کر آئے ، تم اس سے قبول کرو ، اگرچہ وہ دور کا فرد ہو ، اور جو شخص تمہارے پاس باطل لے کر آئے ، تم اسے مسترد کر دو ، اگرچہ وہ شخص دوست اور قریبی ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ معن نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔