حدیث نمبر: 17690
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَهْلًا ; فَإِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - شَدِيدُ الْعِقَابِ ، فَلَوْلَا صِبْيَانٌ رُضَّعٌ ، وَرِجَالٌ رُكَّعٌ ، وَبَهَائِمُ رُتَّعٌ ، صُبَّ عَلَيْكُمُ الْعَذَابُ صَبًّا - أَوْ أُنْزِلَ عَلَيْكُمُ الْعَذَابُ - " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " لَوْلَا شَبَابٌ خُشَّعٌ ، وَشُيُوخٌ رُكَّعٌ ، وَأَطْفَالٌ رُضَّعٌ ، وَبَهَائِمُ رُتَّعٌ ، لَصُبَّ عَلَيْكُمُ الْعَذَابُ صَبًّا ، ثُمَّ لَرَضَّ رَضًّا " . وَقَالَ : " مَهْلًا عَنِ اللَّهِ مَهْلًا " . ¤ وَأَبُو يَعْلَى أَخْصَرُ مِنْهُ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَيْثَمٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” دھیان رکھنا ! اللہ تعالیٰ زبردست سزا دینے والا ہے ، اگر دودھ پیتے بچے نہ ہوتے ، رکوع کرنے والے ( یعنی عبادت گزار ) بڑے نہ ہوتے ، اور چرنے والے جانور نہ ہوتے ، تو تم لوگوں پر عذاب انڈیل دیا جانا تھا ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) تم پر عذاب نازل ہو جانا تھا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” اگر خشوع رکھنے والے نوجوان نہ ہوتے ، اور رکوع کرنے والے بوڑھے نہ ہوتے ، اور دودھ پیتے بچے نہ ہوتے ، اور چرنے والے جانور نہ ہوتے ، تو تم پر عذاب بہا دیا جانا تھا ، اور پھر کچل دیا جانا تھا ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کے بارے میں دھیان رکھنا ، دھیان رکھنا ( یعنی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے ذریعے اس کے عذاب کو دعوت نہ ہو ) ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اس سے زیادہ مختصر روایت کے طور پر نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن خیثم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17690
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3212) اخرجه أبو يعلى فى المسند (6402)»