مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الرِّيَاءِ . باب: ریاکاری کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ : حَدَّثَنِي شَيْخٌ يُكَنَّى أَبَا يَزِيدَ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنِ ابْنِ آدَمَ مَجْرَى الدَّمِ وَالرُّوحِ ، فَبَكَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو وَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ سَمَّعَ النَّاسَ بِعَمَلِهِ ، سَمَّعَ اللَّهُ بِهِ سَامِعَ خَلْقِهِ ، وَصَغَّرَهُ ، وَحَقَّرَهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَاللَّفْظُ لَهُ ، وَالْأَوْسَطُ بِنَحْوِهِ وَقَالَ : " سَمَّعَ اللَّهُ بِهِ سَامِعَ خَلْقِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ بِاخْتِصَارِ قَوْلِ ابْنِ عُمَرَ ، وَقَالَ فِيهِ : فَذَرَفَتْ عَيْنَا عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ . وَسَمَّى الطَّبَرَانِيُّ الرَّجُلَ ، وَهُوَ خَيْثَمَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، فَبِهَذَا الِاعْتِبَارِ رِجَالُ أَحْمَدَ ، وَأَحَدُ أَسَانِيدِ الطَّبَرَانِيِّ فِي الْكَبِيرِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤عمرو بن مرہ بیان کرتے ہیں : ایک بزرگ نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے ، اُن بزرگ کی کنیت ابویزید تھی ، وہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، اسی دوران یہ بات چل نکلی کہ شیطان انسان کی خون کی رگوں میں اور روح کی جگہ ( یعنی پورے وجود میں ) دوڑتا ہے ، تو سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ رو پڑے اور انہوں نے بتایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص اپنے عمل کے حوالے سے لوگوں کے سامنے شہرت کا طلبگار ہو گا ، اللہ تعالیٰ اس کی شہرت کی خواہش کو ظاہر کر دے گا اور اسے چھوٹا اور حقیر بنا دے گا ۔ “ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، روایت کے لیے الفاظ ان کی نقل کردہ ہیں ، انہوں نے معجم اوسط میں اس کی مانند روایت نقل کی ہے اور اس میں یہ الفاظ ہیں : ” قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی شہرت کی خواہش کو اپنی مخلوق کے سامنے ظاہر کر دے گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے قول کے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے اور اس میں انہوں نے یہ بات بیان کی ہے : سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے ۔ امام طبرانی نے اس بزرگ کا نام بیان کیا ہے ، ان کا نام خیثمہ بن عبدالرحمن ہے ، اس بنیاد پر امام أحمد کے رجال اور امام طبرانی کی معجم کبیر میں اسانید میں سے ، ایک سند کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔