مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التوبة— توبہ کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ فِي رَحْمَةِ اللَّهِ تَعَالَى . باب: اللہ تعالیٰ کی رحمت کا بیان
وَعَنْ جُنْدُبٍ قَالَ : جَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَأَنَاخَ رَاحِلَتَهُ ، ثُمَّ عَقَلَهَا ، فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَى رَاحِلَتَهُ ، فَأَطْلَقَ عِقَالَهَا ، ثُمَّ رَكِبَهَا ثُمَّ نَادَى : اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي وَمُحَمَّدًا ، لَا تُشْرِكْ فِي رَحْمَتِنَا أَحَدًا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَتَقُولُونَ هُوَ أَضَلُّ أَمْ بَعِيرُهُ ؟ أَلَمْ تَسْمَعُوا مَا قَالَ ؟ " . قَالُوا : بَلَى . قَالَ : " لَقَدْ حَظَرْتَ ، رَحْمَةُ اللَّهِ وَاسِعَةٌ ، إِنِ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - خَلَقَ مِائَةَ رَحْمَةٍ ، فَأَنْزَلَ رَحْمَةً يَتَعَاطَفُ بِهَا الْخَلَائِقُ : جِنُّهَا ، وَإِنْسُهَا ، وَبَهَائِمُهَا ، وَعِنْدَهُ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ ، أَتَقُولُونَ هُوَ أَضَلُّ أَمْ بَعِيرُهُ ؟ " . قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي أُبَيٍّ عَبْدِ اللَّهِ الْجُشَمِيِّ ، وَلَمْ يُضَعِّفْهُ أَحَدٌ . ¤سیدنا جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دیہاتی آیا ، اس نے اپنی سواری کو بٹھایا ، پھر اسے باندھ دیا ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کر لی ، تو وہ شخص اپنی سواری کے پاس آیا اس کی بندش کو کھولا اس پر سوار ہوا ، اور پھر اس نے بلند آواز میں کہا: اے اللہ ! تو مجھ پر اور سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر رحم فرما اور ہم پر رحم کرنے میں ، کسی کو شریک نہ کرنا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ کیا سمجھتے ہو ؟ یہ زیادہ گمراہ ہے یا اس کا اونٹ ؟ کیا تم نے سنا نہیں ؟ جو اس نے کہا: ہے ، لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں ! ( یعنی ہم نے اس کی بات سنی ہے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم نے اللہ تعالیٰ کی وسیع رحمت کو تنگ کر دیا ہے ، اللہ تعالیٰ نے رحمت کے 100 حصے بنائے ہیں اور ان میں سے ایک حصہ نازل کیا ہے ، جس کی وجہ سے مخلوق ، یعنی جنات ، انسان ، جانور وغیرہ ایک دوسرے پر رحم کرتے ہیں ، اور رحمت کے ننانوے حصے اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں ، تو تم لوگ کیا سمجھتے ہو ؟ یہ زیادہ گمراہ ہے یا اس کا اونٹ ؟ “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف ابوعبداللہ جشمی کا معاملہ مختلف ہے ، ویسے کسی نے اسے ضعیف قرار نہیں دیا ہے ۔