مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التوبة— توبہ کے بارے میں روایات
بَابُ كَيْفِيَّةِ الِاسْتِغْفَارِ . باب: استغفار کی کیفیت کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَفَعَ الْحَدِيثَ - أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ قَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ، وَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ ; كُتِبَتْ كَمَا قَالَهَا ، ثُمَّ عُلِّقَتْ بِالْعَرْشِ لَا يَمْحُوهَا ذَنْبٌ عَمِلَهُ صَاحِبُهَا ، حَتَّى يَلْقَى اللَّهَ وَهِيَ مَخْتُومَةٌ كَمَا قَالَهَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَالِكُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مَالِكٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ” مرفوع “ حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ) ” جو شخص یہ پڑھتا ہے : ” میں اللہ تعالیٰ کی پاکی کا اعتراف کرتا ہوں ، اس کی حمد کے ہمراہ ، اور میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہوں ، اور اس کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : تو ان کلمات کو اسی طرح نوٹ کر لیا جاتا ہے جس طرح اس نے پڑھے ہوں اور پھر عرش کے ساتھ لٹکا دیا جاتا ہے ، ان کو پڑھنے والے شخص نے ، جو بھی گناہ کیا ہو ، ایسا کوئی بھی گناہ ان کلمات کو مٹاتا نہیں ہے ، یہاں تک کہ جب وہ شخص اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا ، تو ان کلمات پر مہر لگی ہوئی ہو گی ( اور اس شخص کو ان کا اجر و ثواب عطا کیا جائے گا ) ۔